اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کسی جنرل کا نہیں میر آئیڈیا ہے۔میڈیا اتھارٹی کو آرڈیننس نہیں بل کے ذریعے لائیں گے۔بل کا سارا فریم ورک دے دیا ہے۔بل صحافیوں سے شئیر کیا جائے گا۔

صرف 12 افراد میڈیا اتھارٹی کی مخالفت کر رہے ہں تمام صحافتی تنظیمیں اور پریس کلبز اس کے حامی ہیں۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹ پر اپنے ایک بیان میں بھی کہا تھا کہ متنازع پی ایم ڈی اے پر انہیں پنڈی کی جانب سے حمایت حاصل ہے

تاہم راولپنڈی میں ایک ذریعے نے تصدیق کی کہ ہمارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صحافیوں کی فلاح بہبود کیلئے سنجیدہ ہے ،یہ کہہ دینا درست نہیں کہ سارا میڈیا جھوٹ بول رہا ہے یا پروپیگنڈا کر رہا ہے،میری نظر میں 99 فیصد صحافی بہترین کام کر رہے ہیں اور صرف ایک فیصد ایسے ہیں جن پر اعتراض اٹھایا جاتا ہے .

حقائق پر مبنی خبر کو روکنا درست نہیں ،وقت آ چکا ہے کہ یہ طے کر لیا جائے کہ کون سی خبر قومی مفاد ( نیشنل انٹرسٹ ) کی ہے اور کونسی نہیں ،ہماری عدالتیں اس بابت فیصلے دے چکی ہیں اور اس کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں ،مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے

جہاں غلط خبر (فیک نیوز) بریک کر کے اس پر تجزیے شروع کر دئیے جاتے ہیں، صحافیوں کی فلاح بابت میں نے صحافیوں کا کیس مضبوط بنیادوں پر لڑا ہے،میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری جلد خوشخبری دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں