ویسے تو دنیا میں کئی ایسے جوڑے ہیں جو کہ ایک ساتھ کافی خوش گوار نظر آتے ہیں اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر کافی چرچہ میں رہتی ہے۔ ایسا ہی ایک جوڑا ہسام اور شمائلہ کا بھی تھا جسے دیکھ کر سب رشک کیا کرتے تھے۔ ہسام اور شمائلہ کی گزشتہ سال ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں میاں، بیوی اور بچہ گاڑی میں سوار ہیں، جبکہ شوہر اہلیہ سے کچھ پیسے مانگ رہا ہے جس پراہلیہ پیار بھرے انداز میں جواب دے رہی ہے۔ لیکن اب یہ جوڑا ایک خلع لینے کے در پر آ گیا ہے۔

شاید کسی کی نظر ہی لگئی تھی، تو جوڑے کے بیچ دوریاں بڑھ گئیں اور اب نوبت طلاق تک آن پہنچی ہے۔ ہسام اور شمائلہ کے بیچ ہونے والی دوریوں سے متعلق ویسے تو ہسام نے باقاعدہ بیان دیا تھا مگر اہلیہ شمائلہ کی جانب سے کوئی بیان سامنےنہیں آیا تھا۔ مگر اب شمائلہ بھی بول پڑی ہیں۔ ایف ایچ ایم پاکستان کی جانب سے پوسٹ کی گئی تصاویر میں شمائلہ کا موقف سامنے آگیا ہے۔ شمائلہ کا کہنا ہے کہ میں ہمیشہ پرفیشنل اور پرسنل لائف کو الگ لے کر چلی ہوں۔ میں کبھی بھی اپنے گھر کی باتوں کو باہر نہیں کرنا چاہتی تھی، مگر چونکہ میری بیٹی کے باپ نے کی ہیں تو مجھے ان الزامات کا جواب دینا پڑ رہا ہے۔

ہسام بلاگر تھے، اور وہ وی لاگنگ کرنا چاہتے تھے تو ہم نے فیملی کانٹینٹ بنانا شروع کیا، اس وقت ان کے صرف 500 فالوورز تھے۔ جبکہ حجاب سے متعلق شمائلہ کہتی ہیں کہ حجاب کبھی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ میں حجاب اکثر نہیں کرتی ہوں۔ اور ہماری پری ویڈینگ فوٹو شوٹ میں بھی میں نے حجاب نہیں کیا تھا، اگر انہیں حجاب سے مسئلہ تو ہوتا تو وہ پری ویڈنگ فوٹو شوٹ میں بھی بولتے۔ انہوں نے میری پڑھائی کے اخراجات اٹھانے کی ذمہ داری لی مگرکچھ ماہ بعد ہی پیسے دینے سے صاف منع کر دیا بلکہ میری کمائی میں سے بھی 90 فیصد خود لے لیا کرتے تھے۔

شمائلہ کہتی ہیں کہ ہسام کہتے تھے، کیوں نا ہم تمہارے چہرے سے پیسہ کمائیں۔ شمائلہ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ میں وہ گندگی برداشت کروں اور وہ پیسہ کمائیں۔ میں پیسے دینے کو تیار تھی مگر مجھے بے عزتی برداشت نہیں تھی۔ آج جو کچھ بھی ان کے پاس ہے وہ ان کے والد کا ہے۔ شمائلہ نے شوہر پر ایک بڑا الزام عائد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کی فیملی کے ایک میمبر نے مجھے ہراساں کیا تھا، جس کا ذکر میں نے ہسام سے کیا تھا مگر وہ ہسنے لگے اور میری حفاظت کرنے کے بجائے میں بے سہارا ہو گئی تھی۔

فیملی سے متعلق شمائلہ لکھتی ہیں کہ ہسام کی فیملی مجھے طلاق دلوانا چاہتی ہے، مگر وہ مجھ سے خلع لینا چاہتا ہے تاکہ مزید پیسے لے سکے۔ ہسام نے رات 2 بجے مجھے گھر سے نکال دیا تھا، میں اس اسٹوڈیو میں رہنے پر مجبور ہو گئی تھی، جو ہم نے ویڈیوز بنانے کے لیے کرایہ پر لیا تھا۔ میں نے ہسام سے کہا کہ وہ بھی میرے ساتھ رہ لے، اس کے جواب میں انہوں نے مجھے ز ذلیل کیا۔

جو شخص اپنی بیوی کو ہراسگی سے نہ بچا سکے اور اپنی بیٹی کو کیا بچائے گا۔ لوگوں نے مجھے ذلیل کیا، مجھ پر جوس کے ڈبے پھینکے تھے۔ میرے ساتھ اس وقت میری بیٹی بھی تھی، اس صورتحال میں آپ سوچ سکتے ہیں میں کس حال سے گزری ہونگی۔ میرے شوہر کے ڈرامے کی وجہ سے مجھے لوگوں کی منفی باتیں سننا پڑیں، چبھتی نگاہیں مجھے غیر محفوظ محسوس ہو رہی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں