crossorigin="anonymous">

50 بچیوں کو تعلیم دیتا تھا ۔۔ اپنے ہاتھوں سے بنائے مدرسے کو تباہ دیکھ کر قاری صاحب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے

سیلاب کی تباہ کاریاں تاحال جاری ہیں، لیکن اس سب میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کا اپنا گھر تو اتنا متاثر نہیں ہوا مگر وہ درسگاہ کے ٹوٹ جانے پر آنسو بہا رہے ہیں۔ ہماری ویب  کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔ سوشل میڈیا پر ایک شخص کی ویڈیو کافی وائرل ہے جو کہ

غالبا مدرسے کا مہتمم معلوم ہوتا ہے، آنکھوں میں آنسو اور دکھی آواز کے ساتھ اس تباہ حال مدرسے کی جانب سے دیکھ رہا تھا۔ جہاں اب سوائے پانی اور کچرے کے کچھ بھی نہ تھا، مدرسے کے مہتمم کا کہنا تھا کہ میں یہاں بچیوں کو تعلیم دیتا تھا، یہیں پر قرآن اور دیگر مقدس اوراق بھی موجود ہیں۔

جبکہ ساتھ ہی مہتمم کے لبوں پر ایک جملہ تھا کہ یہاں قرآن مجید رکھے تھے، سب ختم ہو گیا۔ مہتمم نے بتایا کہ وہ یہاں 50 بچیوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیا کرتے تھے، لیکن اب نہ تو قرآن مجید موجود ہیں اور نہ ہی چھت جس کے نیچے ان بچیوں کو قرآن مجید کی تعلیم دی جا سکے۔ ویڈیو پر صارفین کی جانب سے خاص توجہ بھی دی جا رہی ہے جبکہ

مدد کی پیشکش بھی کی جا رہی ہے، پوسٹ پر صارف نے ساتھ ہی رابطہ نمبر بھی لکھا تاکہ ان مہتمم کی مدد کی جا سکے۔

Check Also

چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات شہباز گل پر بجلیاں گرا دی گئیں

وفاقی حکومت نے شہباز گل کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست دائر کردی۔اسلام آباد ہائیکورٹ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.